Featured

First blog post

This is the post excerpt.

Advertisements

This is your very first post. Click the Edit link to modify or delete it, or start a new post. If you like, use this post to tell readers why you started this blog and what you plan to do with it.

post

تمہاری یادوں کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک گیا ہوں میں

مزدوری اتنی تو بنتی ہے کہ اک دیدار ہو جاے…

الحمد کیا ہے

ہم نے اس سے پوچھا یہ ۔۔ ⚘الحمد⚘ کیا ہے ۔۔۔ کہنے لگا اس کا آغاز بھوک کے اختتام سے ہوتا ہے کہنے لگا اگریہ سمجھنا ہے تو بکری کے بچہ جب ماں کا دودھ پی چکتا ہے تو وہ ایک عجیب طرح سے مڑ کے دوڑتا ہے انسان کا بچہ بھی لیٹا لیٹا ہاتھ اور ٹانگیں مارتا ہے ۔۔ معلوم ہے وہ حرکتیں کیوں ہوتی ہیں ۔۔ وہ اپنے ہونے کو محسوس کررہا ہوتا ہے ۔۔ ہونے کو محسوس کرنا بھی حمد ہے ۔۔۔۔ جب بچہ دودھ چکنے کے بعد غنودگی سے قبل ایک ایک بہت حلقی اور ہلکی آواز پیدا کرتا ہے وہ بھی حمد ہے ۔۔۔ چڑیاں جب دانوں تک پہنچ جاتی ہیں تو ان کی آواز میں ایک ٹھہراؤ آجا تا ہے وہ بھی حمد ہے ۔۔۔۔۔۔ ہوا جب پتوں سے ٹکراتی ہے اور کچھ درختوں سے کھڑکھڑ کی آواز آتی ہے وہ بھی حمد ہے ۔۔۔ دریا چلتے ہوئے آواز کرتا ہے وہ بھی حمد ہے ۔۔۔ بچے اکثر واول بولتے ہیں اور الف بھی واول ہے بچے کا غوں غان کرنا یہ بھی حمد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کسی نے مرغیاں رکھی ہوں تو جب مرغی کا انڈر 21 دنوں بعد پھوٹتا ہے اور اندر سے چوں چوں کی آواز آتی ہے اس وقت مرغی کے آواز بھی فورا بدل جاتی ہے وہ بہت محتاط ہوجاتی ہے ۔۔۔۔ وہ بہت دھیرے دھیرے بولنا شروع کردیتی ہے وہ بھی حمد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیلیں دائروں میں اڑتی ہیں دائرہ سجدے کی علامت ہے کیونکہ دائرہ ریاضی کے اعتبار سے صفر ہے اور چیلیں جب دائرہ بناتی ہیں تو آسمان پر صفر لکھتی ہیں تو وہ اپنے ہونے کا انکار کردیتی ہیں تو اپنے نہ ہونے کا اقرار اس کے ہونے کا اقرار ہے جب ہم سجدہ کرتے ہیں تو اپنے اندر انا نہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر آپ نے اپنے سر کو زمین پررکھ دیا تو آپ نے یہ کہا کہ میں خود کچھ نہیں ہوں کوئی ہے جو مجھے زندہ رکھے ہوئے یہ ۔۔۔ یہ اقرار ہے اس کی ذات کا اور اس کی ذات کا اقرار ہی اس کی حمد ہے ۔۔۔۔۔ جب ہم نماز میں ہاتھ اٹھاتے ہیں جسے ہم رفع یدین نماز کے اندر کرتے ہیں تو دراصل ہم کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم تیرے سامنے لاچار ہے تو ہمارا چارہ گر بن جا ۔۔ ہینڈزاپ کا مطلب بھی ہتھیار ڈال دینا ہے اور پنجابی میں ہتھ کھلے کرنے کا مطلب بھی یہ ہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھولوں میں سے جب خوشبو آتی ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ خدا خوشبووں کا مزاج رکھتا ہے ۔۔۔ جب درخت اپنی ٹہنیوں سے پھل لٹکاتے ہیں تو پیغام دیتے ہیں کہ وہ انسان کی بھوک کا خاتمہ چاہتا ہے وہ بھوک کے خلاف ہے افلاس کے خلاف ہے ۔۔ جب بارش زمین کی جانب گرائی جاتی ہے تو جب پہلے پہلے قطرے زمین پر پڑتے ہیں تو زمین سے خوشبو آتی ہے وہ بھی زمین کی حمد ہے زمین کی حمد پودے بھی ہیں ہر سبز رنگ حمد ہے پاکستانی پرچم کا رنگ بھی حمد ہے ۔۔۔۔ خضر کا مطلب سبز ہوتا ہے ۔۔ ہر شخص جو درخت لگاتا ہے ۔۔ اسلام کی اشاعت کے لئے کام کرتا ہے وہ خضر ہے 🌿..

سادگی میں حسن ہے

میں کسی مولانا سے شادی کروں گی
ساگر تیمی
” اس کی مت ماری گئی ہے ، بے وقو ف لڑکی ۔ اسی لیے اسے ایم ایس سی کرائی تھی کہ یہ اس قسم کی بات کرےگی ” خیرالنساء کا غصہ بھڑکا ہوا تھا ۔
” تعجب تو مجھے بھی ہورہا ہے ، دنیا کی تلخ حقیقتوں سے ناواقف یہ نادان لڑکی ، آخر کسی مولوی کے ساتھ دشواریوں کو کس طرح جھیل پائے گی ”
باپ امین الحسن کے چہرے پر فکر کی گہری لکیریں پھیلتی جارہی تھیں ۔
سنیے سونو کے ابو، میں تو سمجھا کر تھک چکی ہوں ، الٹے مجھے سمجھانے لگ جارہی ہے ، اللہ رسول کے کیا کیا حوالے پیش کرنے لگتی ہے ، ایسے میں بھلا اس سے کیا کوئی معقول بات کی جاسکتی ہے ؟ آپ ہی اسے سمجھائیے ۔
خیرو ، تو گھبرا مت ، میں اسے سمجھاتا ہوں ۔ وہ میری بیٹی ہے ، تعلیم یافتہ ہے ۔ سمجھ جائے گی ۔
خیرالنساء اور امین الحسن بستر پر دراز ہوگئے اور دونوں اسی فکر میں غرق تھے کہ آخر ان کی بیٹی ناعمہ کا کیا ہوگا ۔
رشتہ انجینئر لڑکے کا آیا تھا ، وہ خلیج میں کسی بین الاقوامی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا ، اس کے پاس فیملی ویزا تھا ، تنخواہ بہت اچھی تھی اور معروف خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ ایک ایک فرد کو رشتہ پسند تھا ، امین الحسن تو اس رشتے سے زیادہ ہی خوش تھے ۔ خیرو، تیری بیٹی راج کرے گی راج ، لڑکے کے پا س فیملی ویزا ہے ، ارے ادھر اس کا نکاح ہوا اور ادھر اڑ جائے گی تیری ناعمہ ، شہر میں چار کمرے کی فلیٹ لے کر رہتا ہے وہ ، کمپنی کی طرف سے بہترین گاڑی ملی ہوئی ہے ، اس کے نیچے کتنے سو ملازم کام کرتے ہیں ۔ خوش قسمت ہے تیری ناعمو، دیکھ ماشاءاللہ کیا رشتہ آیا ہے ۔ تصویر دیکھی ہے تو نے لڑکے کی ؟ ارے پرنس لگتا ہے ماشاءاللہ ۔ عرب شہزادے سے کم نہیں ۔
خیرالنساء بھی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی ، اس کی خوشیاں اس کی نگاہوں کی چمک سے ہویدا تھیں ، خوشی کا تو یہ عالم تھا کہ وہ ٹھیک سے الفاظ تک ادا نہیں کرپارہی تھی ۔ امین الحسن سے کہ رہی تھی : بس جی ، اب اللہ کے لیے جلدی جلدی تیاری شروع کردیجیے اور اللہ سے دعا کیجیے کہ رشتے کو کسی کی بری نظر نہ لگے ۔میں نے تو تصویر ناعمہ کے کمرے میں رکھ دی ہے ، کسی وقت دیکھ ہی لے گی وہ بھی ۔ بہت خوش نصیب ہے ہماری گڑیا !!
دوسرے دن ماں نے اس سے اس تصویر کے بارے میں پوچھا تھا اور اس کے جواب سے حیرت ہی میں پڑگئی تھی ۔
ناعمہ : امی ، مجھے لڑکے میں کوئی کمی نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ میں کسی عالم دین مولانا لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔
خیرالنساء : یہ تو کیا بکواس کررہی ہے ۔ تیرے ابو اس رشتے سے کتنے خوش ہیں ، تمہیں کچھ پتہ ہے ۔ مولانا سے شادی کرے گی ، بے وقوف لڑکی ! پہلے یہ تو جاننا چاہیے تھا کہ یہ لڑکا کیا کرتا ہے ، انجینئر ہے ، خلیج میں نوکری کرتا ہے ، لاکھوں کا مہینہ کماتا ہے ، کتنے سو ملازمین اس کے اندر کام کرتے ہیں ، فیملی ویزا ہے اس کے پاس ۔ چار کمرے کا فلیٹ لے کر رہتا ہے ، بہترین گاڑی ہے اور ۔۔۔۔۔
ناعمہ : امی ، یہ سب ٹھیک ہے ، لیکن اس کے چہرے سے دینداری تو نہیں جھلک رہی ؟ مجھے دیندار لڑکا چاہیے ۔
خیرالنساء : تیرا دماغ کھسک گیا ہے کیا ؟ یہ کیا دینداری دینداری کی رٹ لگا رکھی ہے ، اس کو چھوڑ کے تو چار ہزار پانچ ہزار والے کسی مولوی سے بندھنا چاہتی ہے۔ کیا کرے گا کوئی مولوی تیرے لیے ۔ پاگل کہیں کی ۔ کس نے تمہیں الٹا سیدھا سمجھا دیا ہے ؟
ناعمہ : امی ، کسی نے کچھ نہیں سمجھایا ۔ میں کسی مولانا سے اس لیے شادی کرنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنا حق بھی جانتا ہے اور بیوی کا بھی ۔ وہ حقوق مانگتا ہے تو حقوق ادا بھی کرتا ہے ۔ وہ امانتدار ہوتا ہے ، وہ بدنظر نہیں ہوتا ، وہ محبت صرف مجھ سے کرے گا اور روزی تو بہر حال لکھی ہوئی ہے وہ تو جتنی ملنی ہوگی مل کر رہے گی ۔
خیرالنساء : تیرے باپ کو کتنا صدمہ ہوگا جب وہ یہ سب سنیں گے ۔ کیسا اچھا بھلا رشتہ آیا تھا ، ارے ایسے رشتے اب ملتے کہاں ہیں ۔بے وقوف لڑکی کہیں کی ۔۔۔۔۔
ناعمہ : امی ، یہ اچھا رشتہ کتنے پیسوں میں طے ہوگا ؟ لاکھوں کمانے والا کتنے لاکھ کی مانگ کرے گا ، یہ بھی معلوم ہے نا ؟
خیرالنساء : یہ تیرا مسئلہ ہے یا تیرے والدین کا مسئلہ ہے ؟ شادی میں تو آج کے زمانے میں پیسے خرچ ہوتے ہی ہیں ۔ اس میں ایسی کون سی نئی بات ہے ؟ تو زيادہ دلیلیں مت بگھار سمجھی ۔
ناعمہ : امی ، آج کے زمانے میں بھی اچھے مولانا بغیر کچھ لیے شادی کرتے ہیں ۔ سنت کے مطابق شادی ہوتی ہے ۔ میرے لیے آپ لوگ کوئی مولانا لڑکا تلاش کیجیے ۔سوچیے نا ، یہ دنیا کتنے دنوں کی ہے ۔ آج نہ کل سب کو مرجانا ہے ، میں کسی خداترس انسان کے ساتھ جینا چاہتی ہوں تاکہ میری آخرت تباہ نہ ہو جو ہمیشہ کی زندگی ہے ۔
امین الحسن نے صبح ناشتے کے بعد جب ناعمہ کو آواز دی تو ناعمہ نے پہلے سے ہی اپنا ذہن بنالیا کہ اسے کس طرح باپ کو قائل کرنا ہے ۔
امین الحسن : بیٹا ، ہم لوگوں نے آپ کے لیے ایک رشتہ دیکھا ہے ، ہم سب لوگوں کو لڑکا پسند ہے ، آپ کی امی بتا رہی تھیں کہ آپ ۔۔۔۔۔
ناعمہ : ابو ،

مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر آپ میری خوشی چاہتے ہیں تو میرے لیے کوئی دیندار عالم دین لڑکا دیکھیے ۔ میں جانتی ہوں کہ یہ سن کر آپ کو اچھا نہ لگے گا لیکن میں آپ سے پھر بھی یہی گزارش کروں گی ۔
امین الحسن : لیکن بیٹا ، مولوی لوگوں میں بھی تو برے لوگ ہوتے ہيں ؟ اگر کوئی ناہنجار مولوی مل گیا تو ؟ نہ دنیا ملی اور نہ آخرت ۔ خسارہ ہی خسارہ ۔۔ہم آپ کا برا تو نہیں چاہ سکتے ہیں نا بیٹا !
ناعمہ : آپ صحیح کہ رہے ہیں ابو ، لیکن ہر جگہ شرح دیکھی جاتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ مولوی برے ہوں لیکن زياد ہ تر تو اچھے ہوتے ہیں اور پھر کیا ضروری ہے کہ میری قسمت میں کوئی برا ہی ہو ۔ آپ اللہ پر بھروسہ تو کیجیے ۔ میری دنیا بنانے کے چکر میں میری آخرت تو کسی بے دین کے حوالے مت کیجیے ۔
امین الحسن لاجواب ہوگئے تھے ۔ انہیں اپنی بیٹی کی بات میں جان نظر آرہی تھی ، وہ کوئی کم سن اور گنوار لڑکی بھی نہیں تھی ۔ اعلا تعلیم سے بہرہ ور تھی ، تئیس سال کی عمر کو پہنچ چکی تھی ۔ وہ اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کرسکتی تھی لیکن انہیں سماج اور خاندان کے لوگوں کا طعنہ ستا رہا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ لوگ مذاق اڑائیں گے ، باتیں بنائیں گے اور انہیں سب کی باتیں سننی پڑیں گیں ۔
خیرالنساء کو انہوں نے اب خود ہی قائل کرنا شروع کردیا اور اس تلاش و جستجو میں لگ گئے کہ کوئی اچھا عالم ملے تو اپنی بیٹی کی شادی کردیں ۔ اللہ کا کرنا دیکھیے کہ انہیں دنوں شہر میں دینی جلسہ ہورہا تھا ۔ ایک نوجوان عالم دین قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں دھنوادھار تقریریں کررہا تھا ۔ امین الحسن کی آنکھوں میں امید کی روشنی جھلملانے لگی ۔
چھ مہینے کے اندر شادی ہوگئی ،مولانا ایک دینی ادارہ میں تدریسی فريضہ انجام دے رہے تھے ، وہی کوئی دس ہزار کی تنخوا ہ تھی ۔ شادی بڑے ہی سادہ انداز میں بغیر کسی سلامی کے ہوئی ۔ ناعمہ کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے پاؤں زمین پر ہوں ہی نہیں ویسے بھی مولانا شیروانی میں بہت حسین لگ رہے تھے لیکن دوسری طرف خاندان کے لوگ مزے ضرور لے رہے تھے ۔ چچازاد بھائی امین الحسن سے کہ رہے تھے : چلیے امین صاحب ، پیسے بچانے کےلیے آپ نے اچھا قدم اٹھایا، دینداری کے پردے میں یہ حرکت آسانی سے چھپ جائے گی ۔ گاؤں کے مکھیا کا طنز تھا : مبارک ہو امین بابو ، نہیں بھی تو پچیس تیس لاکھ کی بچت ہوگئی ویسے شادی کے بعد اسی پیسے سے مولانا کو کوئی بزنس کروادیجیے گا ۔۔۔۔
دو مہینے بعد ناعمہ سسرال سے اپنے مائکے آئی تھی ، وہ ایسے خوش تھی جیسے اسے زندگی کا سب سے بڑا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو ، ماں کو اس بات کی خوشی تھی کہ بیٹی خوش ہے ، یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندرون میں خلش اب بھی موجود تھی البتہ امین الحسن پوری طرح مطمئن تھے ۔ باپ بیٹی کے درمیان باتیں ہورہی تھیں تبھی ناعمہ کے فون کی گھنٹی بجی ۔ ادھر ا س کے شوہر تھے ۔ وہ موبائل فون لے کر کمرے میں چلی گئی ۔ کچھ دیر بعد جب وہ باہر آئی تو اس کا چہرہ کھل رہا تھا ، اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں اور وہ کہ رہی تھی : ابو ، وہ آپ کے داماد نے مدینہ منورہ کے ایک تحقیقی ادارے میں نوکری کےلیے عرضی دی تھی ، وہ منظور ہوگئی ہے ۔ ڈیڑھ لاکھ تنخواہ کے ساتھ رہائش فری دی جائے گی اور فیملی ویزا بھی ہے، ہم لوگ اگلے چھ مہینے کے اندر ان شاءاللہ مدینہ شریف میں ہوں گے ۔
خیرالنساء امیرالحسن کو دیکھ رہی تھی اور دونوں مارے خوشی کے روئے جارہے تھے ۔۔۔
لیکن امی یاد رکھیں دنیا مقصود نہیں ہے ۔۔جو اللہ سے ڈر کر حضورﷺ- کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گزار تے ہیں دنیا انکے قدم چوم تی ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے ومن یتق اللہ یجعلہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب ۔۔۔جو اللہ تعالی سے ڈر کر زندگی گزارے اللہ اسکے لئے راستہ نکالدیتے ہیں اور ایسے طریقے سے روزی دیتے ہیں جس کا اسکو گمان بھی نہیں ہوتا ۔۔۔
مگر جو دنیا ہی کو اپنا نصب العین بنالے وہ آخرت کی نعمتوں سے محروم ہوتاہے اور دنیاوی زندگی بھی پریشان کن ہوتی ہے ۔

عطائی ڈاکٹروں سے بچیں

عطائی اور CP CHILD
آپ کسی بھی ٹیچنگ ہسپتال کے بچہ وارڈ کا چکر لگائیں

۔وہاں آپ کو کیا ملے گا؟
Diagnosis : CP Child with Post Meningitic Sequeale
Or Partially treated Pyo Meningitis ..
ایک مریض ایسا ملے گا جس کو حقیقت میں گردن توڑ بخار تھا لیکن عطائی اس کو کچھ خشک ٹیکے لگا لگا کر بخار کو عار ضی طور پر ختم کر دیتا تھا اور غریب والدین اپنے بچے کو ایک دن چھوڈ کر ایک دن یا روزانہ اس عطائی کے پاس لے کر آتے رہے اور سلسلہ چلتا رہا اور جب غریب والدین نے دیکھا کہ ہمارا بچہ تو مسلسل اکڑ رہا ہے ، ہوش کھو رہاہے اور اس کو باربا ر جٹھکے لگ رہے ہیں تو وہ اس کو ٹیچنگ ہسپتال لے کر آگئے جہان ان کو بتلایا گیا کہ گردن توڈ بخار کا صحیح معنوں میں بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ اب ہمیشہ کے لیئے معزور ہو چکا ہے اور اب ہوش کا کھونا، اکڑاہٹ کا رہنا اور اکثر اوقات جٹھکوں کی بیماری کا رہنا اب معمول رہے گا اور بچہ خوراک کی نالی سے خوراک لے گا،چھاتی اکثر خراب رہے گی ۔بس ساتھ ساتھ ورزش کرواتے رہنا، دنیا میں اس کا اب علاج بس ہی یے۔ بچہ خود سے پیشاب یا پاخانہ نہیں کر سکے گا ۔۔ ۔ اس کو کہتے ہیں گردن توڑ بخار کا برقت علاج نہ ہونے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں نے ایک بچے کو ہمیشہ کے لیئے جسمانی اور ذہنی معزور بنا دیا اور وہ کہلایا CP CHILD
اور عطائی کیا کہے گا کے بچے کی کمر سے جو پا نی نکالا تھا ڈاکٹر نے اس وجہ سے بچہ معزور ہو گیا حالانکہ کمر کے پانی کا نکالے جانا (CSF Analysis) گردن توڑ بخار کی تشخیص اور علاج کا حصہ ہے ۔۔
پہچانیئے اپنے بچوں کے قاتلوں کو ان عطائیوں کو۔
اور اپنے پیاروں کو سار ی زندگی کی معزوری سے بچائیے
ان قاتلوں کا احتساب کیجیئے جنھوں نے آ پ کے پیارے بچے کو CP Child بنا دیا ..

Try to think before you speak

As a Psychologist in Pakistan, I have been on the receiving end of some of the most frustrating and problematic things ever said (not just by acquaintances or random people but friends and family too), encouraging me to share my two cents on mental health here today. As I write this I know I will probably get lot of flak for it; lots of “yaar learn to take a joke” or “you’re taking it too seriously”, or “you’re such a buzzkill”.

But, this topic is NOT a joke. It NEEDS to be taken seriously. And I don’t mind being a “buzzkill”.

Ever since I’ve been in this field, a lot of absurd things have been said to me that just leave me shaking my head and biting my tongue as I hold back and try to not “come on too strong”. Things like “tum tou pagalun ki Doctor ho na?” (You’re crazy people’s doctor right?) “Paglun ka elaaj kartay kartay khud toupagal Nai ban gai?” (Maybe you’re turning into a crazy person yourself after treating them) “Darr Nai lagta paglun kay saathkaam karney se?” (Aren’t you scared of working with them”), “Khud bhi pagal banti jaa rahi ho” (you’re starting to go mad yourself)

The way we talk about things has a huge impact on how they are perceived, and the language we use has huge implications. For a topic that is already so tabooed and stigmatized in our society, language such as this only ends up reinforcing that stigma and taboo. This results in a lot of shame for people who are suffering from mental illnesses hindering them from talking about it,suffering in silence and not seeking the appropriate help and treatment they need.

Such stigma has actually been well documented to be one of the biggest barriers to seeking treatment. It also ends up perpetuating the “log Kia kahain gaye” cycle. If only we were to talk about mental illnesses/health as acceptingly and as non-judgementally as we talk about medical or physical illnesses, maybe we’d see a lot more people seeking help and much lower rates of depression, anxiety, suicides etc.

Such language also perpetuates and reinforces the negative stereotypes about mental health such as people suffering from mental illnesses are more likely to be perpetrators of violence, are dangerous or that they all belong in “mental institutes”. When in fact people with mental illnesses are more likely to be victims of violence, and are usually able to cope with their difficulties with the right help and treatment and function as productive members of society.

What’s even more frustrating as a Child psychologist particularly is that these things aren’t just said to me but also to children in an attempt to explain to them what I do. If that is how we talk to children about mental health from an early age, how will they ever learn that there is nothing wrong with them if they are going through a difficult time? How will they ever learn that it’s okay to talk about difficult emotions and feelings? That it’s not their fault. That if they do talk about difficult things they won’t be labeled “mad” or “crazy” or “psychos”. So the next time you’re having a hard time explaining to a child what a Psychologist is, I’d take a leaf from my Bhabi’s book who very simply told my nieces that I’m a “child relaxer” (people relaxer or mind relaxer works just as well too!). And I think I like that. Better than “mind-reader”, “Psycho-doctor” and so on.

If you’ve continued to read till here, I would like to believe you actually care about how to change this. Here are a few simple suggestions of what we can do:

1. Be more mindful of how we talk about mental health and while we’re at it let’s start by avoiding words such as psycho mad or crazy.

2. READ and learn more about mental health. If somebody tells you they’re a psychologist, don’t just ask them if they’d give you free sessions because you’re having a hard time at work. Use it as an opportunity to learn about mental health, ask questions, share your insights. Most psychologists I know are actually super passionate about their field and love talking about it!

3. If someone discloses they’re struggling or thinking about seeing a psychologist/psychiatrist/therapist, be encouraging, ask them how you can help, and LISTEN. Listen especially if you don’t know what to say. DON’T tell them that you were depressed/anxious too and you just exercised/prayed/partied it away!

4. Mental illness is real – DON’T brush it under the rug – as difficult and awkward as it is, have the hard talk, address it, confront it.

5. Stop making mental illness the punchline of your jokes or insults. Don’t say things like, “she’s SO bipolar” just cause she changes her mind frequently about what to eat for dinner.

If you made it to the end of this post, thank you for reading and I hope I was able to put some things into perspective. If you’re a psychologist too, I’d love to hear what things you’ve been told that made you roll your eyes all the way to the back or want to bang your head against the wall! 🙃

رحمت اللعالمین کی حضرت بلال سے ملاقات

✔حضرت بلال(رض) کا حضور پاک (ص) سے تعارف کیسے ہوا؟

حضرت بلال سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم (ص) کو کیسے دیکھا؟
بلال فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا۔ کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا۔ سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا۔ ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔۔
اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا۔
قصہ مختصر کہ بلال نے حضور کو کافی سخت جملے کہے۔ حضور یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔۔
حضور یہ سن کر بھی چلتے رہے۔۔ بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہے۔
بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں۔ اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔ میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پےسے ہوئے مجھ سے لے لینا۔۔
بلال سو گئے اور حضور نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔۔
صبح بلال کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال کو دی اور ساری رات چکی پیسی۔۔ ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلال کو صحابئِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔
وہ بلال جو ایک دن اذان نہ دے تو خدا تعالی سورج کو طلوع ہونے سے روک دیتا ہے، اس نے حضور کے وصال کے بعد اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب اذان میں ’أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ تک پہنچتے تو حضور کی یاد میں ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور زار و قطار رونے لگتے تھے۔

ایثار اور اخوت کا یہ جذبہ اتنا طاقتور ہے۔
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین

Pakistan Army

April 1989
Captain Sadaqat from the electronic warfare cell intercepted an enemy transmission. A person named Captain Vijay Kumar was asking his base to have the photographs of two specific peaks under Pakistani occupation, named as Nusrat and Nasreen. He presented this report to the Major, his Company commander from 1 Commando Battalion. It was an alert that Indians are going to do any misadventure in this area. Major sent this report to Brigadier Riaz Bukhari, who understood the sensitivity of the matter and decided to do aerial reconnaissance himself. After a short aerial view of the area, he spotted some moving dots heading towards the peak. It was an alarming situation that enemy is soon going to reach the post. Azad Kashmir Regiment was assigned to block the way of intruders. But they were far away from Indians and because of adverse weather and snow walls; they might not make it in time. Now the situation was more adverse.
It was decided to drop commandos through helicopters, but it proved to be useless as there was no place for them to land. Now it was decided to do a sling operation. 11 commandos from 1 Commando were decided to be dropped on the peak hanging from the helicopter with a rope. Just before the commencement of the first flight, a storm broke out in the area. Though it was very risky but it was decided to continue the mission. One after the other, 11 commandos were dropped. Indians were only able to hear the noise of helicopter but were unable to see it as thick fog covered everything. Captain Sadaqat was still scanning the enemy wireless transmission. Vijay Kumar was leading the Indian party, he told this situation to his base headquarters, but they did not believe that any flight can be made in this area. Luckily the wind from North to South started blowing which shifted the fog towards Indians. The fog covered their anti glare goggles and they were unable to see far. Major was observing this situation very closely as he was leader of the 11 commandos. He signaled his men to move forward. When they were just 15 meters away from the Indians, Major fired warning shots and shouted, “1 commando has surrounded you. Drop your weapons and surrender, we will let you go. Otherwise we guarantee your death.”
They refused to surrender. It was actually the initial patrol by Indians. Pakistani commandos opened fire and a bloody battle started.
“A battalion of Pakistanis is already on the peak, send back up”, in a harassed voice, Vijay Kumar sent a message on wireless.
Indians started to climb the ropes, but Pakistani commandos made it impossible by opening gates of hell on them. They tried to climb again and again but it was impossible for them. During all this, major was observing the area below the peak. A notable concentration of the enemy was observed. He ordered his men to take cover behind the rocks and contacted Major Abdul Haq of Artillery.
“We can’t fire. Don’t have the idea of your location. You can get hit as well”, Haq hesitated.
“Don’t hesitate, I will direct will direct you about the enemy location.”, Lion hearted Major replied.
The first two shells landed near Pakistanis, but soon it was shifted on the enemy. For a period of 3 hours, Pakistan Artillery kept on shelling the Indians. At about 11:00 pm, Major saw the Indians cutting their ropes and burning their camp to retreat. After a short period of 15 minutes, everyone was gone.
Major was called to the base camp, where he was personally congratulated by General Ali Kuli Khan. Later he was awarded Sitara e Jurrat.
Today the world knows the hero as Brigadier Abdul Rehman Bilal.